طریق معاملت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - طور طریقہ، باہمی میل ملاپ اور برتاؤ کا طریقہ۔ "وقار عظیم . کی روشِ کار اور ان کے طریق معاملت کو میں نے معلوم یا غیر معلوم طور پر اپنایا ہو اور اسے اپنا معمول اور اپنا وظیفۂ حیات بنایا ہو تو عجب نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ، ١٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'طریق' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'معاملت' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٦ء کو "فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - طور طریقہ، باہمی میل ملاپ اور برتاؤ کا طریقہ۔ "وقار عظیم . کی روشِ کار اور ان کے طریق معاملت کو میں نے معلوم یا غیر معلوم طور پر اپنایا ہو اور اسے اپنا معمول اور اپنا وظیفۂ حیات بنایا ہو تو عجب نہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، فورٹ ولیم کالج تحریک اور تاریخ، ١٧ )

جنس: مؤنث